حیدر آبادکرناٹک کے ممتاز عالم دین مولانا محمد صادق آدم کا صحافتی بیان
گلبرگہ، 2؍اگست(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا )علاقہ حیدر آباد کرناٹک کے ممتاز عالم دین مولانامحمد صادق بن آدم ندوی صاحب نے ایک صحافتی بیان ملک کی جنگ آزادی میں ہندوستان کے مسلمان کبھی کسی سے پیچھے نہیں رہے بلکہ مسلمانوں نے تحریک کے لئے قائدانہ کردار اداکیا ہے ۔ہمارے اسلاف و اکابرین نے جنگ آزادی کی قیادت و رہنمائی اس وقت شروع کی تھی۔ جب کہ انگریزوں کی مخالفت کا تصور بھی دور دور تک نہ تھا ۔ ۱۶۰۱ ء میں انگریز تاجر بن کر اس ملک میں آیااور ۱۷۰۱تک میں ملک کے اکثر و بیش تر علاقوں میں اپنا اثر و رسوخ قائم کر چکا تھا۔ یہ تاریخ رہی ہے کہ ملت پر آنے والے مصائب میں اللہ والوں کی دعائیں اور تدبیریں ہی کام آتی ہیں چنانچہ ۱۷۰۲ میں حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ؒ پیدا ہوئے۔ آپ وہ عالم دین ہیں جنھوں نے سب سے پہلے قرآن پاک کا ترجمہ فارسی زبان میں کیا تا کہ امت قرآن کی روح و پیغام سے مستفید ہوسکے۔ آپ نے امت کے مصائب کے علاج کے لیے ’’حجۃ اللہ البالغہ، تفہیمات الیہ، فیوض الحرمین ، نامی کتابیں تصنیف کرکے نسخہ شفاء تجویز کیا ۔آپ کے چار ہونہار فرزند ہوئے شاہ عبدالعزیز ؒ ، شاہ عبدالقادرؒ ، شاہ عبدالغنیؒ ، شاہ رفیع الدینؒ ، آپ کے دو بیٹے شاہ عبدالقادر اور شاہ رفیع الدین نے اردو زبان میں قرآن کریم ترجمہ کیا۔ یہی تراجم قرآن کے اردو ترجموں کی بنیاد ہے۔ جو تراجم ان سے موافق ہے وہی مستند ہے۔فرنگیوں کے خطرناک ارادوں کو دیکھ کر شاہ عبدالعزیزؒ نے ۱۷۷۲ میں ان کے خلاف جہاد کا فتوی دیا۔ اب انگریزوں سے آزادی حاصل کرنا مسلمانوں کا سیاسی ہی نہیں بلکہ مذہبی فرض بھی بن گیا۔حضرت سید احمد شہیدؒ ، شاہ اسماعیل شہیدؒ ،حضرت حاجی امداد اللہ ؒ ، حضرت مولانا قاسم نانودیؒ ، حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ حضرت شیخ الہند مولانا محمود الحسن ؒ اور تمام اکابرین نے اسی فتوی کو نسخہ شفاء کے لیے خاص ترکیب سے پیا اور پلایااور عام استعمال کے قابل بنایا چنانچہ بعد کی تحریکیں اسی فتوی کی بنیاد پر برپا ہوئی۔ اکابرین و مسلم عوام کی انتھک مساعی و مسلسل قربانیوں سے یہ ملک آزاد ہوا۔ اگر اس جنگ میں مسلمان شامل نہ ہوتا تو کبھی یہ آزادی نصیب نہ ہوتی۔ انگریز اس ملک کو چھوڑ کر جانے والا نہیں تھا جیسا کہ ایک انگریز مغرور و متکبر گورنر گلد سلون نے کہا تھا ’’کہ ہماری سلطنت آج اس قدر طاقت ور ہے کہ اگر آسمان بھی اس پر گرنا چاہے تو ہم اس کو اپنی سنگینوں کی نوک پر روک لیں گے وہ ہماری سلطنت کا کچھ نہ بگاڑ سکے گا‘‘۔ ایک اور انگریز نے کہا تھا’’ کہ ہماری حکمرانی میں کبھی سورج غروب نہیں ہوتا‘‘ وہ برطانوی سلطنت دن کے اجالے میں نہیں بلکہ نصف شب کو اپنی بساط لپیٹنے پر مجبور ہوگئی اس کی روانگی آسمان کے گرنے سے نہیں بلکہ چند نحیف و کم زور قوم کے درد مند بزرگوں کی جدو جہد سے عمل میں آئی ہے۔ جن کے بارے میں مدینہ کے گورنر جمال پاشاہ نے کہا تھا’’شیخ الہند کی مٹھی بھر ہڈیوں اور مختصر سے جثے میں کیا حرارت رکھی ہوئی تھی کہ اس نے پوری دنیا، اسلام کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔‘‘
ان بزرگوں کو ہر وقت یہی فکر تھی کہ اس ملک اور ملت کو انگریزوں ظلم و ستم سے کیسے بچایا جائے۔ دیوبند کی چھتا مسجد میں ایک دن اکابرین جمع تھے تو انگریزوں کے تسلط اور غیر معمولی طاقت کو دیکھ کر حضرت حاجی محمد عابد صاحبؒ نے فرمایا کہ ’’انگریزوں نے گہرے پنجے جمائے ہیں دیکھیے کس طرح اکھڑیں گے۔‘‘اس پر حضرت مولانا محمد یعقوب صاحبؒ جو دارالعلوم دیو بند کے سب سے پہلے صدر مدرس اور شیخ الحدیث تھے فرمایا’’حاجی صاحب، آپ کس خیال میں ہیں؟ وہ وقت دور نہیں جب کہ ہندوستان صف کی طرح لوٹ جائے گا۔ کوئی جنگ نہ ہوگی بلکہ بحالت امن و سکون یہ ملک صف کی طرح پلٹ جائے گااور انقلاب ہوجائے گا ۔ رات کو سوئیں گے ان کی علم داری میں اور صبح کریں گے دوسری علم داری میں۔‘‘مولانا محمد صادق آدم صاحب نے اپنا بیانجاری رکھتے ہوئے مزید کہا ہے کہ آج جنگ آزادی میں مسلمانوں کے اس بنیادی کردار کو حرف غلط کی طرح مٹایا جارہا ہے۔ ضرورت اس بات کی کہ ہم ہماری آنے والی نسلوں کو اس تاریخ سے واقف کرواتے رہیں۔ کم سے کم ہر سال یوم آزادی سے پہلے مسلم اکثریتی مدارس میں یا شہر کی مرکزی جگہوں میں ہماری نوجوان نسلوں کے سامنے جنگ آزادی کی اس تاریخ کو ضرور دہرایا جائے۔ تا کہ ان کو کبھی احساس کم تری نہ رہے۔ وہ بھی اپنے اسلاف کے کارناموں کی روشنی میں ہندوستان کی تعمیر جدید میں بھر پور حصہ لیں۔ واضح رہے ک سال گذشتہ حکومت ہند نے مسلمانوں کی جنگ آزادی میں شرکت کا اعتراف کرتے ہوئے ان کی یاد میں تحریک ریشمی رومال اور حضرت مولانا حسین احمد مدنی ؒ کے نام پر ڈاک ٹکٹ جاری تھے۔